جے پور،12؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کانگریس کے قومی تنظیم کے سیکرٹری جنرل اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار میں آنے کے لئے گاندھی (مہاتما گاندھی)اور پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل)کو اپنا لیا ہے اور آنے والے وقت میں یہ لوگ پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی اپنائیں گے۔گہلوت نے دعوی کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم نہیں بنیں گے۔ساتھ ہی کہا کہ ملک کے لوگ ان کے حکومت سے ڈرے ہوئے ہیں۔گہلوت نے کہاکہ بی جے پی پہلے دلت اور گاندھی جی (مہاتما گاندھی)کے خلاف تھی، اب اسے اپواس کی یاد آ رہی ہے۔میں ان سے (بی جے پی سے)پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا انہوں نے سو سال میں کبھی اپواس رکھا ہے۔کانگریس کا اپواس رکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔10اپریل کو بھارت بند کے دوران تشدد واردات نہیں ہوئیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔نریندر مودی اور وسندھرا راجے نے جھوٹ بول کر اقتدار حاصل کیا جس کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔آنے والے وقت میں نہ تو نریندر مودی وزیر اعظم بنیں گے اور نہ ہی وسندھرا راجے وزیر اعلی۔گہلوت نے کہاکہ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آر ایس ایس کی ہندوتو اور ثقافتی ہم آہنگی اب کہاں چلی گئی، کیا ایس سی ؍ایس ٹی کے لوگ ہندو نہیں ہیں۔دلتوں کو کون لوگ گھوڑی پر نہیں بیٹھنے دے رہے ہیں، ظلم کون کر رہے ہیں۔گہلوت نے کہا کہ میں پھر سے دہراناچاہتا ہوں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کو ایک ہو جانا چاہئے اور جم کر سیاست کرنی چاہئے، ملک والے پھر غور کریں گے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اجتماعی ہم آہنگی کی ضرورت ہے اور عام لوگ امن چاہتے ہیں۔راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے پردیش میں نسل پرستی کو فروغ دے رہی ہیں نسل پرستی بڑھے گی تو سماجی ہم آہنگی کہاں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اور بی جے پی لیڈروں کی مخالفت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔وزیر اعلی کو مخالفت کی وجہ سے اپنے دورے ملتوی کرنے پڑ رہے ہیں ایسے میں وزیر اعلی کو ملک والوں کے احساس کو سمجھتے ہوئے استعفی دینے کے لئے آگے آنا چاہئے ورنہ انتخابات میں جو وقت بچا ہے اس میں مخالفت اور بڑھے گی۔سابق وزیر اعلی نے راجستھان میں خراب قانون اور نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناکامی کی وجہ دو اپریل کو بھارت بند کے دوران پولیس اور ضلع انتظامیہ کی موجودگی میں مشتعل بھیڑ نے کانگریس کے سینئر لیڈر بھروسی لال جاٹو کے مکان کو جلا کر گھر میں رکھا سامان لوٹ کر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ کے اتنے دن بعد بھی جاٹو صدمے کی وجہ سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔گہلوت نے ریاست میں پارٹی رہنماؤں میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ میڈیا کی پیداوار ہے۔صوبہ میں تمام رہنما متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں راجستھان سے جڑارہوں گا، سمجھدار کو اشارہ کافی ہے۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا جو نہ سمجھے وہ اناڈی ہے۔